فرار پسندی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بھاگ جانا، مقابلہ نہ کرنا۔ "یہ نظریہ میرے نزدیک فرار پسندی کی ایک نہایت لطیف صورت۔"      ( ١٩٦٨ء، مغربی شعریات، ٣١٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم کیفیت 'فرار' کے بعد فارسی ہی سے ماخوذ لاحقہ فاعلی 'پسند' لگا کر اس کے بعد 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے مرکب بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٦٨ء کو "مغربی شعریات" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بھاگ جانا، مقابلہ نہ کرنا۔ "یہ نظریہ میرے نزدیک فرار پسندی کی ایک نہایت لطیف صورت۔"      ( ١٩٦٨ء، مغربی شعریات، ٣١٣ )

جنس: مؤنث